Question
میں بینک میں ڈی پی ایس (ڈپازٹ پنشن اسکیم) چلاتا ہوں جو مدت پوری ہونے پر جمع شدہ رقم کے ساتھ 'منافع' دیتی ہے۔ زکوٰۃ اور اس منافع کا کیا حکم ہے؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: (1) آپ کی جمع کردہ اصل رقم آپ کا مال ہے — ہر سال اسے اپنی دیگر نقدی کے ساتھ ملا کر نصاب سے بڑھنے پر 2.5% زکوٰۃ ادا کریں، کیونکہ ڈی پی ایس توڑ کر اصل رقم واپس لی جا سکتی ہے (چاہے جرمانے کے ساتھ ہی سہی)۔ (2) روایتی بینک کا مقررہ شرح والا 'منافع' درحقیقت سود (ربا) ہے — اسے اپنے پاس رکھنا حرام ہے؛ جو رقم جمع ہو چکی ہو اسے ثواب کی نیت کے بغیر فقراء یا رفاہِ عامہ میں دے کر اس سے بری الذمہ ہوں، اور وہ کبھی زکوٰۃ شمار نہیں ہو سکتی۔
تفصیل: سود کے حصے پر کوئی زکوٰۃ نہیں — وہ سرے سے آپ کی شرعی ملکیت ہی نہیں؛ اسے پورا کا پورا نکال دینا واجب ہے۔ زکوٰۃ صرف آپ کی اپنی اصل جمع پر ہے۔ آئندہ کے لیے شریعت کے مطابق متبادل اختیار کریں (حقیقی مضاربہ پر مبنی بچت، سونے کی بچت وغیرہ)۔
دلائل: القرآن 2:275؛ القرآن 2:279 (توبہ کرو تو تمہارا اصل مال تمہارا ہی ہے)؛ صحیح مسلم 1598 (سود کے تمام فریقوں پر لعنت)؛ بینک سود سے چھٹکارے کے بارے میں اللجنۃ الدائمہ اور شیخ ابن باز کے فتاویٰ۔
پیچیدہ انفرادی مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 2:275, 2:279
Hadith
Sahih Muslim 1598
Fiqh
Permanent Committee; Ibn Baz on bank interest