Question
میرا آجر ملازمت کے اختتام پر گریچویٹی ادا کرتا ہے۔ کیا مجھے دورانِ ملازمت اس کا حساب کرنا ہوگا، یا وصول کرنے کے بعد ہی؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: گریچویٹی ہاتھ میں آنے سے پہلے اس پر کوئی زکوٰۃ نہیں — دورانِ ملازمت یہ آپ کی مملوکہ دولت ہے ہی نہیں، محض آجر کے ذمے ایک موعودہ واجب ہے، جس کی رقم بھی ابھی حتمی نہیں۔ وصولی کے دن سے یہ نقد مال بن جاتی ہے، جس کی زکوٰۃ نصاب اور حول پورا ہونے کے بعد ادا کی جائے گی۔ ملازمت کے گزشتہ برسوں کی کوئی بقایا زکوٰۃ نہیں۔
تفصیل: زکوٰۃ کے لیے مکمل ملکیت شرط ہے۔ منظوری اور ادائیگی سے پہلے آپ نہ گریچویٹی کا مطالبہ کر سکتے ہیں نہ اسے خرچ کر سکتے ہیں، اور اس کی رقم مدتِ ملازمت اور آخری تنخواہ پر منحصر ہے۔ لہٰذا یہ مستقبل کا مال ہے؛ حساب قبضے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد آسان طریقہ یہ ہے کہ اسے اپنے موجودہ سالانہ یومِ زکوٰۃ میں شامل کر لیں۔
دلائل: قرآن 9:103 («ان کے مالوں سے» — ملکیت سے پہلے لاگو ہی نہیں ہوتا)؛ ابن ماجہ 1792 (حول)؛ اور وہ اصول جو اللجنۃ الدائمۃ اور معاصر علماء نے ملازمت کے اختتامی واجبات پر منطبق کیا ہے۔
پیچیدہ انفرادی صورتوں میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 9:103
Hadith
Ibn Majah 1792, sahih per al-Albani
Fiqh
Permanent Committee on end-of-service benefits