Question
میرا آجر فنڈ میں میری جمع کردہ رقم کے ساتھ اپنی طرف سے بھی رقم ڈالتا ہے، لیکن اگر میں مقررہ سال ملازمت پوری نہ کروں تو اس کا حصہ مجھے نہیں ملتا۔ مجھ پر کس حصے کی زکوٰۃ واجب ہے؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: حساب تین حصوں میں کیجیے: (1) آپ کی اپنی جمع کردہ رقم — اگر نکالنا ممکن ہو تو ہر سال زکوٰۃ واجب ہے، ورنہ وصولی کے وقت؛ (2) آجر کا غیر مستحق (مشروط) حصہ — ملکیت میں آیا ہی نہیں، لہٰذا اس پر کوئی زکوٰۃ نہیں؛ (3) آجر کا مستحق شدہ (ویسٹڈ) حصہ — اب آپ کی ملکیت ہے؛ رسائی ممکن ہو تو ہر سال زکوٰۃ، ورنہ وصولی کے وقت۔
تفصیل: پورے مسئلے پر ایک ہی اصول حاکم ہے: زکوٰۃ صرف اسی مال میں واجب ہوتی ہے جو مکمل اور قابلِ تصرف ملکیت (ملکِ تام) میں ہو۔ استحقاق (ویسٹنگ) سے پہلے آجر کا مقابل حصہ محض ایک وعدہ ہے جو ملازمت چھوڑنے پر ساقط ہو جاتا ہے — اس لیے وہ آپ کے حساب سے باہر ہے۔ جوں ہی استحقاق مکمل ہوتا ہے، وہ حصہ آپ کا مال بن جاتا ہے؛ اب صرف رسائی کا سوال باقی رہتا ہے، جس کا حل جی پی ایف (GPF) کے اصول سے ہوتا ہے کہ ناقابلِ رسائی رقوم کی زکوٰۃ وصولی کے بعد ادا کی جائے۔
دلیل: القرآن 9:103؛ ابن ماجہ 1792 (ملکیت اور حول)؛ نیز شیخ ابن عثیمین اور اللجنۃ الدائمۃ (مستقل فتویٰ کمیٹی) کا ملکِ تام کا اصول۔
پیچیدہ انفرادی صورتوں میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 9:103
Hadith
Ibn Majah 1792, sahih per al-Albani
Fiqh
al-Uthaymin; Permanent Committee on complete ownership