Question
جس گھر میں میرا خاندان رہتا ہے، زمین سمیت اس کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ کیا اس پر زکوٰۃ دینی ہوگی؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: نہیں۔ جس گھر میں آپ رہتے ہیں، جو گاڑی آپ چلاتے ہیں، آپ کا گھریلو سامان — ذاتی استعمال کے اموال پر زکوٰۃ نہیں، خواہ ان کی قیمت کتنی ہی زیادہ ہو۔ زکوٰۃ بڑھنے والے اور تجارتی مال پر واجب ہوتی ہے: نقدی، سونا چاندی، مالِ تجارت، مویشی اور فصلیں۔
تفصیل: نبی کریم ﷺ نے صاف فرمایا: 'مسلمان پر اس کے غلام اور گھوڑے میں کوئی صدقہ نہیں' (صحیح بخاری 1464؛ صحیح مسلم 982) — یہی اس قاعدے کی بنیاد ہے کہ ذاتی استعمال کی جائیداد زکوٰۃ سے خارج ہے۔ حتیٰ کہ خاندان کے استعمال کے لیے رکھا گیا دوسرا گھر (گاؤں کا گھر، چھٹیاں گزارنے کا مکان) بھی زکوٰۃ سے خالی ہے؛ البتہ اگر اسے کرائے پر دیں تو جمع شدہ کرائے پر زکوٰۃ آئے گی، اور اگر بیچنے کی تجارتی نیت سے رکھیں تو اس کی بازاری قیمت پر زکوٰۃ واجب ہوگی (متعلقہ فتاویٰ ملاحظہ کریں)۔
دلائل: صحیح بخاری 1464؛ صحیح مسلم 982؛ زکوٰۃ کے وجوب والی احادیث (بخاری 1454، 1483) میں رہائشی مکانوں کا کہیں ذکر نہیں؛ ابن قدامہ (المغنی) کا نقل کردہ اجماع، اور شیخ ابن باز اور شیخ العثیمین کے فتاویٰ۔
پیچیدہ انفرادی مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 9:103
Hadith
Bukhari 1464; Muslim 982
Fiqh
Ibn Qudamah; Ibn Baz; al-Uthaymin