← Back to Fatwas
Real Estate Jul 13, 2026

غیر متعین نیت والی جائیداد کی زکوٰۃ

Question

میں نے زمین خریدی ہے مگر ابھی طے نہیں کیا کہ کیا کروں گا — اچھی قیمت ملے تو بیچ بھی سکتا ہوں اور مکان بھی بنا سکتا ہوں۔ کیا اس حالت میں زکوٰۃ واجب ہے؟

Ruling (Fatwa)

مختصر جواب: نہیں۔ مالِ تجارت کی زکوٰۃ کے لیے تجارت کی پختہ اور واضح نیت شرط ہے۔ 'بیچ بھی سکتا ہوں، رکھ بھی سکتا ہوں' — اس تذبذب کی حالت میں زمین عام ملکیت کے اصل حکم پر رہتی ہے، جس پر کوئی زکوٰۃ نہیں۔ جس دن آپ پختہ عزم کے ساتھ اس کی تجارت کی نیت کر لیں، اسی دن سے وہ مالِ تجارت بن جاتی ہے اور اسی وقت سے اس کا حول شروع ہوتا ہے۔ تفصیل: زمین اور مکانات میں اصل یہی ہے کہ ان پر زکوٰۃ نہیں (ذاتی اثاثے)؛ مالِ تجارت بننا استثنا ہے جو صرف نیت سے ثابت ہوتا ہے۔ شک کی صورت میں اصل حکم برقرار رہتا ہے۔ جمہور علماء کے نزدیک تجارت کی نیت خریداری کے وقت موجود ہونی چاہیے یا بعد میں پختہ طور پر باندھی جائے؛ محض امکان کافی نہیں۔ شیخ ابن عثیمین نے یہ اصول صراحت سے بیان کیا ہے: 'شاید بیچ دوں' جیسے متذبذب خیالات سے مالِ تجارت کی زکوٰۃ ثابت نہیں ہوتی۔ دلائل: قرآن 2:286 (اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا — ثابت سبب کے بغیر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی)؛ صحیح بخاری 1 اور صحیح مسلم 1907 (اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے)؛ صحیح بخاری 1464 (ذاتی مال کے زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہونے کا اصل)؛ شیخ ابن عثیمین (مجموع فتاویٰ و رسائل، زکوٰۃ) — پختہ نیت کی شرط پر۔ پیچیدہ انفرادی مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔

References

Quran Quran 2:286
Hadith Bukhari 1, 1464; Muslim 1907
Fiqh al-Uthaymin on firm trade intention