Question
مجھے ہر سال کمپنی سے نقد ڈیویڈنڈ ملتا ہے۔ کیا اس پر الگ سے زکوٰۃ واجب ہے؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: ڈیویڈنڈ جب وصول ہو جائے تو وہ عام نقدی ہے جو آپ کے باقی مال میں شامل ہو جاتی ہے۔ اس کی کوئی الگ شرح نہیں — آپ کے سالانہ یومِ زکوٰۃ پر جو کچھ باقی رہے، وہ آپ کی کل نقدی کے حصے کے طور پر 2.5% کے حساب سے ادا ہوگا۔
تفصیل: جو ڈیویڈنڈ یومِ زکوٰۃ سے پہلے خرچ ہو چکا ہو اس پر کوئی زکوٰۃ نہیں — زکوٰۃ اسی مال پر واجب ہوتی ہے جو اس دن موجود ہو۔ بونس شیئرز (اسٹاک ڈیویڈنڈ) اصل شیئرز کے حکم کے تابع ہیں: اگر ٹریڈنگ پورٹ فولیو کا حصہ ہوں تو بازاری قیمت پر، ورنہ طویل مدتی شیئرز کے طریقے پر۔
دلیل: قرآن 2:267؛ صحیح بخاری 1454 (نقدی پر 2.5%)؛ اور دورانِ سال حاصل ہونے والی آمدنی کے بارے میں شیخ ابن عثیمین کی عملی رہنمائی (سال میں ایک ہی تاریخِ حساب)۔
اطلاق: الگ کھاتہ رکھنے کی ضرورت نہیں — اپنے یومِ زکوٰۃ پر بینک + بروکریج + ہاتھ کی نقدی سب جمع کر کے 2.5% ادا کریں۔ حرام آمیز (مخلوط) کمپنیوں کے ڈیویڈنڈ کی تطہیر ایک الگ مسئلہ ہے — متعلقہ فتویٰ ملاحظہ کریں۔
پیچیدہ انفرادی صورتوں میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 2:267
Hadith
Sahih al-Bukhari 1454
Fiqh
al-Uthaymin on mid-year income