Question
میں اپنی فری لانسنگ/ریموٹ کام کی اجرت کرپٹو (USDT وغیرہ) میں وصول کرتا ہوں۔ اس آمدنی کی زکوٰۃ کا حساب کیسے کروں؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: کرپٹو میں ملنے والی اجرت کا وہی حکم ہے جو نقد تنخواہ کا ہے — زکوٰۃ آمدنی پر نہیں بلکہ بچت پر ہے۔ جو خرچ ہو جائے اس پر زکوٰۃ نہیں؛ آپ کے یومِ زکوٰۃ پر والیٹ میں جو کچھ باقی رہے، اسے اپنی دیگر نقدی کے ساتھ ملا کر، نصاب سے تجاوز کرنے پر، اسی دن کے بازاری نرخ سے 2.5% ادا کریں۔
تفصیل: حلال کام کی اجرت کسی بھی باہم طے شدہ قیمتی ذریعے میں لینا اصلاً جائز ہے۔ اعتبار وصولی کے وقت کی قیمت کا نہیں بلکہ آپ کے سالانہ یومِ زکوٰۃ کی قیمت کا ہے؛ ہر ادائیگی کے لیے الگ حول رکھنے کی ضرورت نہیں — سب کا حساب ایک ہی سالانہ تاریخ پر کریں (تنخواہ کی زکوٰۃ کا معروف طریقہ)۔
دلائل: قرآن 2:267؛ صحیح بخاری 1454 (نقدی پر 2.5%)؛ ابن ماجہ 1792 (حول)؛ شیخ ابن باز اور شیخ ابن عثیمین کا تنخواہ کی زکوٰۃ کا طریقہ۔
تنبیہ: جہاں کرپٹو کا لین دین قانوناً ممنوع یا محدود ہو، وہاں مسلمان کو قانون کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے — جائز متبادل تلاش کریں؛ تاہم جو مال پہلے سے ملکیت میں آ چکا ہے اس کی زکوٰۃ بہرصورت فرض رہتی ہے۔
پیچیدہ انفرادی مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 2:267
Hadith
Bukhari 1454; Ibn Majah 1792
Fiqh
Ibn Baz; al-Uthaymin on salary zakat