Question
میں نے کچھ NFT خریدے ہیں — بعض دوبارہ بیچنے کے لیے، اور ایک صرف اپنے ذاتی ذخیرے کے لیے۔ NFT پر زکوٰۃ کس طرح لاگو ہوگی؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: NFT سامان کی طرح ہیں — نیت ہی حکم طے کرتی ہے۔ (الف) جو NFT نفع پر دوبارہ بیچنے کی نیت سے خریدے گئے ہوں وہ عروضِ تجارت ہیں: ہر سال ان کی حقیقی بازاری قیمت (آج بیچنے پر جو ملے) کا 2.5% زکوٰۃ واجب ہے۔ (ب) ذاتی ذخیرے یا استعمال کے NFT (پروفائل تصویریں، اپنے لیے رکھا گیا ڈیجیٹل آرٹ) ذاتی اثاثے ہیں — ان پر زکوٰۃ نہیں۔ (ج) NFT سے حاصل ہونے والی رائلٹی آمدنی پر نقدی کے احکام جاری ہوں گے۔
تفصیل: اگر بازار بالکل ٹھپ ہو جائے اور چیز بک ہی نہ سکے تو اس کی قیمت عملاً صفر ہے — اس سال اس پر کچھ واجب نہیں؛ قیمت لوٹنے پر وہ دوبارہ حساب میں شامل ہوگی۔ حرام مواد والے NFT کی خرید و فروخت سرے سے ناجائز ہے۔ جہاں قیمت لگانا مشکل ہو وہاں ملتی جلتی حالیہ فروخت کی قیمتیں (فلور پرائس) معیار بنائی جا سکتی ہیں۔
دلائل: صحیح بخاری 1 (اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے)؛ صحیح بخاری 1464 (ذاتی استعمال کی اشیاء کا استثنا)؛ قرآن 2:267 مع لجنہ دائمہ اور شیخ ابن باز کے عروضِ تجارت کے اصول۔
پیچیدہ انفرادی صورتوں میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 2:267
Hadith
Bukhari 1, 1464
Fiqh
Permanent Committee; Ibn Baz on trade goods