← Back to Fatwas
Cryptocurrency Jul 13, 2026

قرض کے لیے کرپٹو گروی رکھنے کی صورت میں زکوٰۃ

Question

میں نے بٹ کوائن بطور ضمانت گروی رکھ کر اسٹیبل کوائن میں قرض لیا ہے۔ گروی رکھے ہوئے کوائنز اور قرض میں ملنے والی رقم — دونوں پر زکوٰۃ کا حکم کیا ہوگا؟

Ruling (Fatwa)

مختصر جواب: (1) گروی رکھا ہوا بٹ کوائن اب بھی آپ کی ملکیت ہے — رہن زکوٰۃ کو نہیں روکتا؛ اپنے یومِ زکوٰۃ پر اس کی بازاری قیمت حساب میں شامل کریں۔ (2) قرض میں ملے ہوئے اسٹیبل کوائن جو آپ کے ہاتھ میں ہیں، وہ آپ کے قبضے کا مال ہیں — وہ بھی حساب میں آئیں گے؛ قرض کا بوجھ ہاتھ میں موجود مال سے زکوٰۃ ساقط نہیں کرتا (البتہ عنقریب واجب الادا قسط منہا کرنے کی گنجائش ہے)۔ (3) اگر قرض سودی ہو (مقررہ اضافی واپسی) تو یہ ربا ہے — خود معاہدہ ہی ناجائز ہے؛ توبہ کریں اور جلد از جلد اس سے نکل جائیں۔ تفصیل: رہن ایک جائز معاہدہ ہے — نبی کریم ﷺ نے خود اپنی زرہ گروی رکھی؛ لیکن مرتہن کبھی گروی مال کا مالک نہیں بنتا، اس لیے اس کی زکوٰۃ مالک ہی پر رہتی ہے۔ اگر پلیٹ فارم آپ کی ضمانت لیکویڈیٹ کر دے تو اس دن سے وہ حصہ آپ کے حساب سے نکل جائے گا۔ نقدی کی تنگی میں گروی مال کی زکوٰۃ کی ادائیگی مؤخر کی جا سکتی ہے — واجب ذمے میں باقی رہے گا۔ دلائل: قرآن 2:283 اور صحیح بخاری 2068 (رہن)؛ قرآن 9:103 (زکوٰۃ ملکیت کے تابع ہے)؛ قرآن 2:275 اور صحیح مسلم 1598 (ربا)؛ شیخ ابن عثیمین کہ قرض زکوٰۃ کو نہیں روکتا۔ پیچیدہ انفرادی صورتوں میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔

References

Quran Quran 2:283; 9:103
Hadith Bukhari 2068; Muslim 1598
Fiqh al-Uthaymin on debt and pledged assets