Question
میں، میری بیوی اور بھائی مل کر ایک ہی اکاؤنٹ میں کرپٹو خریدتے ہیں — کسی ایک کا حصہ تنہا نصاب کو نہیں پہنچتا، لیکن سب ملا کر پہنچ جاتا ہے۔ کیا زکوٰۃ واجب ہوگی؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: نقدی قسم کے مال میں ہر مالک کا حصہ الگ الگ شمار ہوگا — خواہ مشترکہ اکاؤنٹ ہی میں کیوں نہ ہو۔ جس کا حصہ (اس کے دیگر اموال سمیت) نصاب کو نہ پہنچے اس پر کچھ واجب نہیں؛ اور جس کا پہنچ جائے وہ اپنے حصے کا 2.5% ادا کرے گا۔ خُلطہ (مشترکہ ریوڑ) کے خصوصی احکام جمہور کے نزدیک صرف مویشیوں کے ساتھ خاص ہیں — سونے، چاندی یا کرنسی پر جاری نہیں ہوتے۔
تفصیل: ایک اہم تنبیہ — زکوٰۃ سے بچنے کے لیے مال کو بٹا ہوا دکھانا یا جڑا ہوا دکھانا حرام ہے: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «صدقے کے خوف سے نہ جدا مال کو جمع کیا جائے اور نہ جمع مال کو جدا کیا جائے»۔ اعتبار حقیقی ملکیت کا ہے، اکاؤنٹ خواہ کسی کے بھی نام پر ہو۔ مشترکہ اکاؤنٹ میں ہر شخص کا حقیقی حصہ لکھ کر محفوظ رکھیں — یہی وفات یا نزاع کی صورت میں انصاف کی حفاظت کرے گا۔ ہر شخص کا حول اس دن سے شروع ہوگا جس دن اس کا اپنا مال نصاب کو پہنچا۔
دلائل: صحیح بخاری 1450 (ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مکتوب)؛ صحیح بخاری 1405 (نصاب)؛ جمہور علماء اور شیخ ابن عثیمین کے نزدیک خلطہ کا اثر صرف مویشیوں میں ہے۔
پیچیدہ انفرادی مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 9:103
Hadith
Bukhari 1450, 1405
Fiqh
majority; al-Uthaymin on khultah