Question
میں نے کاروبار کے لیے ایک بڑی رقم قرض لی، مگر وہ اب تک میرے اکاؤنٹ میں پڑی ہے — سال بھی گزر چکا ہے۔ کیا قرض کی رقم پر زکوٰۃ واجب ہے؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: جی ہاں — قرض لیتے ہی وہ رقم آپ کی ملکیت بن جاتی ہے (قرض کا مقصد ہی یہی ہے کہ آپ کو اسے خرچ کرنے کا حق حاصل ہو جائے)؛ ذمے پر دَین ہونے کے باوجود ہاتھ میں موجود اس مال پر، جب نصاب اور حول مکمل ہو جائیں، زکوٰۃ فرض ہے — دلیل کی رو سے یہی راجح قول ہے (قرض زکوٰۃ کو نہیں روکتا)۔ جو قسط عنقریب واجب الادا ہو اسے منہا کرنے کی گنجائش یہاں بھی موجود ہے۔
تفصیل: کیا ایک ہی رقم پر دو بار زکوٰۃ نہیں ہو رہی؟ نہیں — قرض خواہ اپنے قابلِ وصول مال (مضبوط قرض) کی زکوٰۃ دیتا ہے اور آپ اپنے ہاتھ میں موجود نقدی کی؛ یہ دو افراد کی دو الگ الگ مالی حیثیتیں ہیں۔ اور یاد رکھیے: سود پر قرض لینا حرام ہے؛ اگر آپ نے قرضِ حسنہ لیا ہے تو بروقت اور عمدگی سے ادا کیجیے — ”تم میں بہترین وہ ہے جو ادائیگی میں بہترین ہو“ (صحیح بخاری 2393)۔
دلائل: القرآن 9:103؛ صحیح بخاری 1395 (ظاہری اموال سے وصولی، قرض کے بارے میں پوچھے بغیر)؛ صحیح بخاری 2393؛ شیخ ابن عثیمین کہ جس مقروض کے پاس نصاب موجود ہو وہ زکوٰۃ ادا کرے گا۔
پیچیدہ انفرادی مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 9:103
Hadith
Bukhari 1395, 2393
Fiqh
al-Uthaymin on the debtor's zakat