← Back to Fatwas
Debts & Loans Jul 13, 2026

سودی قرضوں میں ڈوبے ہوئے شخص کو زکوٰۃ دینا

Question

ایک رشتہ دار این جی او/بینک کے سودی قرضوں کے جال میں پھنس گیا ہے — قسط پر قسط بڑھتی جا رہی ہے۔ کیا اسے زکوٰۃ کی رقم دی جا سکتی ہے؟

Ruling (Fatwa)

مختصر جواب: جی ہاں — تنگ دست مقروض (غارم) زکوٰۃ کا قرآن میں مقرر کردہ مصرف ہے؛ اگرچہ قرض سودی معاہدے پر ہو، جو شخص واقعی ادائیگی سے عاجز ہو اور سچے دل سے اس جال سے نکلنا چاہتا ہو، اسے اصل قرض اور چڑھے ہوئے بوجھ کی ادائیگی کے بقدر زکوٰۃ دی جا سکتی ہے — بہتر یہ ہے کہ رقم براہِ راست قرض خواہ کو ادا کی جائے تاکہ پیسہ کہیں اور خرچ نہ ہو۔ شرط: وہ سودی قرض لینے سے توبہ کرے؛ جاری عادت کی مالی مدد گناہ پر تعاون بن جاتی ہے۔ تفصیل: دیہی حقیقت میں بہت سے لوگ مجبوری کے عالم میں سودی قسطوں میں پھنس جاتے ہیں — ان کے لیے زکوٰۃ ہی شریعت کا حفاظتی حصار ہے: اللہ نے مال داروں کے مال میں ان کا حق مقرر فرمایا ہے۔ ترجیح دیں: (1) اصل قرض کی ادائیگی، (2) گھر والوں کا کھانا اور لباس؛ حلال متبادل (قرضِ حسنہ فنڈ، تعاونی ادارے) کھڑے کرنے میں مدد صدقۂ جاریہ ہے۔ عیاشی یا جوے اور نشے کے قرضوں میں — پہلے ثابت شدہ توبہ، پھر مدد۔ دلائل: القرآن 9:60؛ صحیح مسلم 1044 (حدیثِ قبیصہ)؛ القرآن 5:2؛ شیخ ابن باز: سودی الجھن سے نکالنے میں مدد جائز ہے، آئندہ سود پر اعانت نہیں۔ پیچیدہ انفرادی مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔

References

Quran Quran 9:60; 5:2
Hadith Sahih Muslim 1044
Fiqh Ibn Baz on aiding the indebted