Question
میں نے اپنے بھائی کے بینک قرض کی ضمانت دی ہے۔ کیا یہ ذمہ داری میری زکوٰۃ کے حساب کو کم کرے گی؟ اور اگر وہ نادہندہ ہو جائے تو میں کیا کروں؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: (1) ضمانت ایک مشروط (معلّق) ذمہ داری ہے — جب تک اصل مقروض ادائیگی کرتا رہے، آپ کے مال سے کچھ نہیں نکلا؛ لہٰذا اس کا آپ کی زکوٰۃ پر کوئی اثر نہیں — پورے مال کی زکوٰۃ حسبِ معمول واجب ہے۔ (2) اگر وہ نادہندہ ہو جائے اور آپ اپنی جیب سے ادا کریں: جو آپ نے ادا کیا وہ خرچ ہو گیا — حساب سے نکل گیا؛ اور اتنی رقم کا مقروض پر آپ کا قرض (واجب الوصول) قائم ہو گیا — اگر وہ خوشحال ہو اور قرض کا اقرار کرتا ہو تو یہ مضبوط قرض ہے (ہر سال حساب میں شامل)، ورنہ کمزور قرض (وصولی پر زکوٰۃ)۔
تفصیل: ضامن بننا ایک عمدہ تعاون ہے مگر پُرخطر ذمہ داری بھی — نبی ﷺ نے فرمایا: «الزعیم غارم» یعنی 'ضامن ذمہ دار ہے' (ابو داؤد 3565، ترمذی 1265؛ البانی: صحیح)۔ اپنی استطاعت سے بڑھ کر ضمانت نہ دیں اور اسے تحریری صورت میں محفوظ رکھیں۔ تنبیہ: سودی قرض کی ضمانت دینا آپ کو سود کے معاہدے میں شریک کر دیتا ہے — دلیل پر چلنے والے علماء نے اس سے منع کیا ہے؛ اگر ہو چکا ہو تو توبہ کریں اور آئندہ نہ دہرائیں۔ اور جو ضامن مقروض کی نادہندگی کے باعث واقعی تنگ دست ہو جائے، وہ خود غارمین کی مد میں زکوٰۃ کا مستحق بن جاتا ہے۔
دلائل: ابو داؤد 3565 (البانی: صحیح)؛ قرآن 9:103 (زکوٰۃ موجود مال پر ہے — مشروط ذمہ داریاں اسے کم نہیں کرتیں)؛ قرآن 9:60؛ شیخ ابن عثیمین — مستقبل کی غیر یقینی ذمہ داریوں کے بارے میں۔
پیچیدہ انفرادی مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 9:103; 9:60
Hadith
Abu Dawud 3565; Tirmidhi 1265
Fiqh
al-Uthaymin on contingent liabilities