← Back to Fatwas
Debts & Loans Jul 13, 2026

کرنسی کی قدر گرنے کے بعد قرض کی ادائیگی

Question

پانچ سال پہلے میں نے ایک لاکھ ٹکہ قرض دیا تھا — اب اس کی قوتِ خرید بہت گھٹ چکی ہے۔ کیا میں مہنگائی (افراطِ زر) کا معاوضہ طلب کر سکتا ہوں؟ اور اس واجب الوصول رقم کی زکوٰۃ کیسے نکالی جائے؟

Ruling (Fatwa)

مختصر جواب: (1) قرض کی واپسی مثل بمثل ہوتی ہے (مثلاً بمثل) — آپ نے ایک لاکھ دیا تو ایک لاکھ ہی آپ کا حق ہے؛ افراطِ زر کے معاوضے کی شرط لگانا یا اس کا مطالبہ کرنا قرض پر زیادتی ہے — یعنی سود۔ یہی جمہور علماء اور فقہ اکیڈمی کا فیصلہ ہے۔ البتہ اگر مقروض ادائیگی کے وقت بغیر کسی پیشگی شرط کے اپنی خوشی سے کچھ بڑھا کر دے دے تو یہ حسنِ ادائیگی کی سنت ہے — جائز ہے۔ (2) زکوٰۃ: واجب الوصول رقم (ایک لاکھ) ہی پر — اگر قرض مضبوط (وصولی کی امید والا) ہو تو ہر سال، اور اگر کمزور ہو تو وصولی کے بعد۔ تفصیل: افراطِ زر کے نقصان سے بچاؤ کا حلال راستہ عقد ہی کے وقت ہے: طویل مدت کے لیے قرض دینا ہو تو قرض سونے یا کسی مستحکم پیمانے میں طے کیا جا سکتا ہے (ایک بھری سونا قرض دیا → ایک بھری سونا ہی واپس ہوگا) — شرط یہ ہے کہ پیمانہ شروع ہی میں متعین ہو، درمیان میں بدلا نہ جائے۔ کرنسی کی تباہ کن گراوٹ (جب کرنسی عملاً بے کار ہو جائے) کی صورت میں بعض فقہاء نے مختلف حساب کا ذکر کیا ہے — ایسی استثنائی صورت میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں؛ عام افراطِ زر اس درجے تک نہیں پہنچتا۔ دلائل: قرآن 2:279 («نہ تم ظلم کرو، نہ تم پر ظلم کیا جائے»)؛ صحیح بخاری 2393 (تم میں بہترین وہ ہے جو ادائیگی میں بہترین ہو — ادا کرنے والے کی طرف سے رضاکارانہ اضافہ)؛ صحیح مسلم 1587 (نقدی دھاتوں کے تبادلے میں برابری)؛ اسلامی فقہ اکیڈمی (جدہ) اور اللجنۃ الدائمۃ کا فیصلہ کہ قرض برابر رقم میں واپس ہوگا اور افراطِ زر کے اشاریے سے جوڑ کر اضافہ سود ہے۔ پیچیدہ انفرادی مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔

References

Quran Quran 2:279
Hadith Bukhari 2393; Muslim 1587
Fiqh Islamic Fiqh Academy Jeddah; Permanent Committee