Question
میں نے اپنی بیٹی کی شادی اور اپنے علاج کے لیے الگ الگ رقم رکھی ہوئی ہے — یہ تو 'ضرورت' کا پیسہ ہے۔ کیا اس پر بھی زکوٰۃ واجب ہوگی؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: جی ہاں۔ مستقبل کی ضروریات کے لیے الگ رکھی ہوئی رقم بھی آپ ہی کی مملوکہ نقدی ہے — نصاب اور حول مکمل ہوتے ہی اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔ شریعت کی رعایت صرف زیرِ استعمال اشیاء (رہائشی مکان، لباس، برتن) کے لیے ہے — مستقبل کے لیے جمع شدہ رقم کے لیے نہیں؛ ورنہ ہر شخص اپنے ہر ذخیرے کو 'ضرورت' کا نام دے کر زکوٰۃ سے بچ نکلتا۔
تفصیل: جو واقعی محتاج ہے — جس کے پاس نصاب کے بقدر فاضل مال سرے سے ہے ہی نہیں — اس پر ویسے بھی کچھ واجب نہیں؛ لیکن نصاب سے زائد رقم جس پر سال گزر چکا ہو، شریعت کی نظر میں آپ کو 'صاحبِ استطاعت' بنا دیتی ہے۔ جب علاج پر خرچ شروع ہو جائے تو جو خرچ ہو گیا وہ حساب سے نکل گیا؛ زکوٰۃ کے دن جو باقی بچے صرف اسی کا 2.5% ادا کرنا ہے۔ اور یاد رکھیے: جس مال کی زکوٰۃ ادا کر دی جائے وہ مذموم کنز نہیں۔
دلائل: القرآن 2:219 ('کہہ دیجیے: جو ضرورت سے زائد ہو')؛ القرآن 9:34-35 مع صحیح بخاری 1403 (بخیل کا مال قیامت کے دن سانپ بنا کر اس کے سامنے لایا جائے گا)؛ سلف سے منقول مشہور اصول کہ جس مال کی زکوٰۃ ادا کر دی گئی وہ کنز نہیں؛ شیخ ابن عثیمین کا مخصوص مقصد کے لیے رکھی گئی بچت سے متعلق فتویٰ۔
پیچیدہ انفرادی مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 2:219; 9:34-35
Hadith
Sahih al-Bukhari 1403
Fiqh
al-Uthaymin on earmarked savings