← Back to Fatwas
Pension & GPF Jul 13, 2026

سال پورا ہونے سے پہلے مال منتقل کر کے زکوٰۃ سے بچنے کا حکم

Question

کچھ لوگ حَول مکمل ہونے سے عین پہلے زکوٰۃ سے بچنے کے لیے مال رشتہ داروں کے پاس منتقل کر دیتے ہیں یا فرضی اخراجات دکھاتے ہیں، پھر بعد میں واپس لے لیتے ہیں۔ اس کا کیا حکم ہے؟

Ruling (Fatwa)

مختصر جواب: زکوٰۃ سے بچنے کے حیلے — حَول پورا ہونے سے پہلے مال کی عارضی منتقلی، جعلی اخراجات، سوچے سمجھے بٹوارے — حرام ہیں؛ بلکہ راجح قول کے مطابق ان سے فرض ساقط بھی نہیں ہوتا: فرار کی نیت سے کی گئی منتقلی اللہ کے سامنے ذمہ داری نہیں ہٹاتی۔ نبی کریم ﷺ نے صدقہ کم کرنے کی چال بازی سے صراحتاً منع فرمایا ہے۔ تفصیل: «صدقے کے ڈر سے نہ جدا مال جمع کیا جائے اور نہ جمع مال جدا کیا جائے» — یہ حدیث مویشیوں کی زکوٰۃ کے بارے میں وارد ہوئی، لیکن علماء نے اس سے عمومی قاعدہ اخذ کیا ہے: زکوٰۃ گھٹانے کی ہر تدبیر حرام ہے۔ باغ والوں کا قصہ یاد کیجیے (سورۂ قلم) جو رات کے وقت نکلے تاکہ فقیروں کے آنے سے پہلے پھل کاٹ لیں — اللہ نے پورا باغ ہی تباہ کر دیا۔ البتہ حَول سے پہلے حقیقی خرچ یا صدقہ بلاشبہ جائز ہے — کسوٹی نیت ہے: حقیقی خرچ ایک چیز ہے اور واپسی کے وعدے پر دکھاوے کی منتقلی بالکل دوسری چیز۔ جو شخص واقعی اپنا مال دے دے (کبھی واپس نہ لے) اس کا مال بس کم ہو گیا — اس میں کوئی گناہ نہیں۔ دلائل: صحیح بخاری 1450؛ قرآن 68:17-33؛ صحیح بخاری 1 (نیتوں والی حدیث)؛ اور شیخ ابن عثیمین کا قول کہ فرار کے حیلوں سے فرض ساقط نہیں ہوتا۔ پیچیدہ انفرادی مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔

References

Quran Quran 68:17-33
Hadith Bukhari 1450, 1
Fiqh al-Uthaymin on evasive devices