Question
میں نے مارکیٹ میں دکان لینے کے لیے مالک کو بھاری ناقابلِ واپسی سلامی دی ہے؛ یہ پوزیشن (قبضہ) بعد میں آگے فروخت بھی کی جا سکتی ہے۔ اس کی زکوٰۃ کا کیا حکم اور حساب ہے؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: (1) کرایہ دار (آپ) کی طرف سے: سلامی ادا کرتے ہی وہ رقم آپ کی ملکیت نہیں رہی — یہ ایک خرچ ہے؛ اس پر کوئی زکوٰۃ نہیں۔ اگر آپ خود اپنی تجارت کے لیے دکان چلاتے ہیں تو پوزیشن کا حق استعمالی اثاثہ ہے — اس پر زکوٰۃ نہیں؛ لیکن اگر پوزیشن کو نفع پر بیچنے کی نیت سے روکے رکھیں تو وہ مالِ تجارت ہے — ہر سال منتقلی کے بازاری نرخ پر 2.5%۔ (2) مالک کی طرف سے: وصول شدہ سلامی اس کی نقد آمدنی ہے — اس کے باقی مال میں شامل ہو کر نصاب اور حَول کے اعتبار سے زکوٰۃ کے تابع ہے۔
تفصیل: دکان کے اندر کا مالِ تجارت حسبِ معمول الگ سے زکوٰۃ کے تابع ہے؛ ڈیکوریشن اور فرنیچر مستثنیٰ مستقل اثاثے ہیں۔ عقد کی صحت: واضح طے شدہ شرائط پر پیشگی (پریمیم/پگڑی) لینا جائز اجارہ کے معاہدے کا حصہ ہے؛ لیکن کرایہ بھی لینا اور مدت ختم ہونے پر کرایہ دار کے حقِ قبضہ سے انکار بھی کرنا ظالمانہ ابہام ہے جو جھگڑوں کو جنم دیتا ہے — معاہدہ لکھ لیجیے۔
دلائل: صحیح بخاری 1 (نیت ہی طے کرتی ہے کہ استعمال ہے یا تجارت)؛ صحیح بخاری 1464 (استعمالی اثاثوں کا استثنا)؛ القرآن 2:282 (معاہدے لکھ لینے کا حکم)؛ اور اللجنۃ الدائمۃ کے مالِ تجارت اور اجارہ کے اصول۔
پیچیدہ انفرادی صورتوں میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 2:282
Hadith
Bukhari 1, 1464
Fiqh
Permanent Committee on leases and trade goods