← Back to Fatwas
Stocks & Shares Jul 13, 2026

نابالغ بچے کے نام پر کی گئی سرمایہ کاری کی زکوٰۃ

Question

میں اپنے بچے کے مستقبل کے لیے اُس کے نام پر سرمایہ کاری کرتا ہوں — حقیقتاً وہ میں نے اُسے ہبہ کر دیا ہے۔ کیا نابالغ کے مال پر زکوٰۃ ہے، اور اسے کون ادا کرے گا؟

Ruling (Fatwa)

مختصر جواب: جی ہاں — جمہور علماء (امام مالک، شافعی، احمد؛ اور یہی شیخ ابن باز و شیخ عثیمین کا فتویٰ ہے) کے نزدیک نابالغ اور مجنون کے مال پر بھی زکوٰۃ فرض ہے، کیونکہ زکوٰۃ مال ہی سے متعلق حق ہے — مالک کا مکلّف ہونا شرط نہیں۔ ولی (سرپرست) بچے کے اپنے مال ہی سے اسے ادا کرے گا اور حساب رکھے گا۔ تفصیل: حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: «یتیموں کے مال میں تجارت کرو تاکہ صدقہ (زکوٰۃ) اسے کھا نہ جائے»، اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی زیرِ کفالت یتیموں کے مال کی زکوٰۃ ادا کرتی تھیں — صحابہ کرام جانتے تھے کہ نابالغ کے مال پر زکوٰۃ واجب ہے۔ عام شرائط بچے کے اپنے مال پر لاگو ہوں گی (بشرطیکہ ہبہ حقیقی ہو): اُس کا مال بذاتِ خود نصاب کو پہنچے اور اُس پر سال (حول) گزرے — والد کے مال کے ساتھ ملا کر نہیں، بلکہ الگ حساب سے۔ اور جو رقم محض دکھاوے کے لیے بچے کے نام رکھی گئی ہو جبکہ حقیقت میں وہ آپ ہی کی ہو، وہ آپ ہی کا مال ہے — آپ اپنے حساب میں اس کی زکوٰۃ دیں گے۔ دلائل: قرآن 9:103 (عمومی طور پر)؛ صحیح بخاری 1395 (اُن کے مالداروں سے لی جائے گی — اور مالدار نابالغ بھی مالدار ہے)؛ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا معروف اثر (مؤطأ) اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا عمل۔ پیچیدہ انفرادی مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔

References

Quran Quran 9:103
Hadith Bukhari 1395; athar of Umar, Muwatta
Fiqh majority; Ibn Baz; al-Uthaymin