← Back to Fatwas
Livestock & Agriculture Jul 13, 2026

بٹائی اور کرائے پر لی گئی زرعی زمین پر عشر

Question

بٹائی میں اور جب میں زرعی زمین کرائے پر لیتا ہوں، تو عشر کون ادا کرے گا — زمین کا مالک یا کاشتکار؟

Ruling (Fatwa)

مختصر جواب: صحیح بخاری 1483 سے مستنبط عام اصول کی بنیاد پر، عشر (یا نصف عشر) خود زرعی پیداوار پر واجب ہے۔ اس لیے فصل کاٹنے کے وقت جو شخص فصل کا مالک ہو، اسی پر اپنے حصے کا عشر ادا کرنا واجب ہے۔ بٹائی میں زمین کا مالک اور کاشتکار دونوں اپنے معاہدے کے مطابق فصل کے ایک حصے کے مالک ہوتے ہیں؛ ہر ایک کو اپنے اپنے حصے کا عشر ادا کرنا ہوگا اگر وہ حصہ نصاب (پانچ وسق، یعنی تقریباً 653 کلوگرام بنیادی غلہ) کو پہنچ جائے۔ مقررہ کرائے کی لیز میں کاشتکار پوری فصل کا مالک ہوتا ہے اس لیے وہی عشر دے گا؛ زمین کا مالک کرایہ وصول کرتا ہے جو زرعی پیداوار نہیں ہے اور اس پر عشر واجب نہیں (اگرچہ شرائط پوری ہونے پر اس پر نقدی/مال کی زکوٰۃ واجب ہو سکتی ہے)۔ دلائل: 1. صحیح بخاری 1483: نبی ﷺ نے فرمایا: "جو زمین بارش کے پانی یا قدرتی نہروں کے پانی سے سیراب ہو... اس پر عشر (دسواں حصہ) واجب ہے؛ اور جو زمین کنویں سے سیراب ہو، اس پر نصف عشر (بیسواں حصہ) واجب ہے۔" اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وجوب زمین کی پیداوار پر ہے، نہ کہ خود زمین یا کرائے کی آمدنی پر۔ 2. زکوٰۃ کا عام اصول: فصلوں کی زکوٰۃ فصل کاٹنے کے وقت فصل کے مالک پر واجب ہے (دیکھیے نصاب سے متعلق حدیث صحیح بخاری 1405، 1459 وغیرہ، جو خود فصل کے بارے میں ہیں)۔ نوٹ: مذکورہ احادیث بٹائی یا لیز کو صراحتاً بیان نہیں کرتیں، اس لیے حکم اس عام قاعدے کو لاگو کر کے اخذ کیا گیا ہے کہ عشر کٹی ہوئی فصل کی ملکیت کے تابع ہے۔ پیچیدہ معاہدات کے لیے کسی ماہر عالم سے رجوع کریں۔ تنبیہ: یہ فتویٰ صرف فراہم کردہ دلائل پر مبنی ہے۔ مخصوص معاملات کے لیے آپ کو اہلِ حدیث کے کسی عالم سے رجوع کرنا چاہیے۔

References

Hadith Sahih al-Bukhari 1483
Fiqh Based on the general principle from Sahih al-Bukhari 1483; applied by scholars of Ahl al-Hadith such as Ibn Baz, al-Uthaymin, and the Permanent Committee for Islamic Research and Ifta.