Question
کیا میرے شوروم میں رکھی نمائشی گاڑیاں/آلات اور ڈیمو یونٹس زکوٰۃ کے قابل مالِ تجارت ہیں؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: آپ کے شوروم میں رکھی نمائشی گاڑیاں/آلات اور ڈیمو یونٹس صرف اسی صورت میں مالِ تجارت کے طور پر زکوٰۃ کے قابل ہیں جب وہ فروخت کی نیت سے رکھے گئے ہوں۔ اگر انہیں محض نمائش کے لیے یا مستقل اثاثہ جات کے طور پر رکھا جائے (مثلاً ایک ڈیمو یونٹ جو فروخت کے لیے نہیں اور طویل مدت تک استعمال ہوتا ہے)، تو ان کی اصل قیمت پر زکوٰۃ واجب نہیں، البتہ انہیں کرائے پر دینے یا بعد میں فروخت کرنے سے حاصل ہونے والا کوئی بھی منافع الگ سے زکوٰۃ کے تحت آ سکتا ہے۔ مذکورہ احادیث اس جدید صورتِ حال کو براہِ راست بیان نہیں کرتیں، لیکن مال کی زکوٰۃ کا عمومی اصول سنت سے واضح ہے۔ دلائل: 1۔ صحیح بخاری 1454 اور صحیح بخاری 1448 مختلف اقسام کے مال پر زکوٰۃ کے وجوب کو ثابت کرتی ہیں؛ 2۔ صحیح بخاری 1459 اور 1447 نصاب کی حدیں مقرر کرتی ہیں؛ 3۔ صحیح بخاری 1404 زکوٰۃ ادا کیے بغیر مال جمع کرنے پر تنبیہ کرتی ہے۔ ان کی بنیاد پر، فروخت کی نیت سے رکھا مالِ تجارت نصاب کو پہنچنے اور ایک قمری سال گزرنے پر زکوٰۃ کے قابل ہے۔ جو ڈیمو یونٹس فروخت کی نیت سے نہیں، وہ مستقل اثاثہ جات کی طرح ہیں اور ان پر زکوٰۃ نہیں۔ پیچیدہ معاملات میں کسی عالم سے رجوع کریں۔
References
Hadith
Sahih al-Bukhari 1468; Sahih al-Bukhari 1454; Sahih al-Bukhari 1459; Sahih al-Bukhari 1404; Sahih al-Bukhari 1455
Fiqh
Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim; general principle from the Sunnah