← Back to Fatwas
Cash, Bank & Savings Jul 13, 2026

بینک اکاؤنٹس اور بچت کے بیلنس پر زکوٰۃ

Question

اپنے کرنٹ اور سیونگز بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم کی زکوٰۃ کیسے ادا کروں؟

Ruling (Fatwa)

مختصر جواب: بینک اکاؤنٹس (کرنٹ اور سیونگز) میں موجود رقم پر زکوٰۃ واجب ہے، بشرطیکہ وہ نصاب کو پہنچ جائے اور ایک قمری سال آپ کی ملکیت میں رہے۔ نقدی کا نصاب چاندی پر مبنی ہے: پانچ اوقیہ (تقریباً 595 گرام چاندی) یا اس کی قیمت۔ اگر آپ کا بیلنس قمری سال کے آغاز اور اختتام پر اس مقدار کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، تو آپ پر کل بیلنس کا 2.5% بطور زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہے (سال کے دوران جمع ہونے والی اضافی بچت سمیت)۔ آپ نقد یا اس کے مساوی ادا کر سکتے ہیں۔ دلائل: 1۔ صحیح بخاری 1404 اور آیت (9:34) میں سونا چاندی جمع کر کے زکوٰۃ ادا نہ کرنے پر سخت وعید ہے، جو ظاہر کرتی ہے کہ نقدی کے مساوی مال پر بھی زکوٰۃ واجب ہے۔ 2۔ صحیح بخاری 1454 (ابو بکر رضی اللہ عنہ کا خط) میں چاندی کا نصاب بیان ہوا ہے: 'پانچ اوقیہ سے کم چاندی پر کوئی زکوٰۃ نہیں۔' 3۔ صحیح بخاری 1403: زکوٰۃ ترک کرنے پر سخت وعید، جو اس کی فرضیت کو ظاہر کرتی ہے۔ 4۔ صحیح بخاری 1395: معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا گیا تاکہ وہ زکوٰۃ کی تعلیم دیں، جس سے یہ ایک رکن کے طور پر ثابت ہوتی ہے۔ متعدد اکاؤنٹس، قرضوں، یا غیر مساوی بیلنس پر مشتمل پیچیدہ مسائل کے لیے کسی صاحبِ علم عالم سے رجوع کریں۔

References

Hadith Sahih al-Bukhari 1404; Sahih al-Bukhari 1403; Sahih al-Bukhari 1454; Sahih al-Bukhari 1395
Fiqh Sahih al-Bukhari, Sahih Muslim; as understood by the Salaf and Ahl al-Hadith scholars