← Back to Fatwas
Cash, Bank & Savings Jul 13, 2026

موبائل منی (بیکاش/نَگَد) بیلنس پر زکوٰۃ

Question

میں بیکاش اور نَگَد والٹ میں رقم رکھتا ہوں — کیا اس بیلنس پر زکوٰۃ واجب ہے؟

Ruling (Fatwa)

مختصر جواب: جی ہاں، موبائل منی (بیکاش/نَگَد) بیلنس پر زکوٰۃ واجب ہے بشرطیکہ وہ نصاب (کم از کم مقدار) کو پہنچ جائے اور پورا ایک قمری سال (حول) آپ کی ملکیت میں رہے۔ یہ بیلنس نقد بچت کے حکم میں ہے اور مال کی زکوٰۃ کے عمومی حکم میں داخل ہے۔ تفصیل: مال پر زکوٰۃ کی فرضیت قرآن اور صحیح احادیث سے واضح طور پر ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ التوبہ (9:34-35) میں فرماتے ہیں: "اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور اسے اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خبر سنا دیجیے..." یہ آیت ہر اُس جمع شدہ مال کو شامل ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کیا جاتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نصاب مقرر فرمایا: پانچ اوقیہ چاندی (تقریباً 595 گرام چاندی) سے کم اور پانچ وسق اناج سے کم پر کوئی زکوٰۃ نہیں، جیسا کہ صحیح بخاری 1404 اور 1405 میں ہے۔ یہی اصول نقدی، بینک جمع رقوم، کرنسیوں اور موبائل منی بیلنس پر لاگو ہوتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ روکنے پر سخت وعید سنائی، جیسا کہ صحیح بخاری 1403 میں ہے: "جسے اللہ نے مال دیا اور اس نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہ کی تو قیامت کے دن اس کا مال گنجے زہریلے سانپ کی صورت میں بنا دیا جائے گا..." اور صحیح مسلم 988a میں اونٹوں کی زکوٰۃ نہ دینے کی سزا مذکور ہے، جو ہر اُس مال کو شامل ہے جس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ چونکہ موبائل منی بیلنس ایک سیال (liquid) مال ہے اور عام طور پر بچت اور لین دین کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس پر نقدی، سونے، چاندی یا کسی بھی کرنسی کی طرح زکوٰۃ واجب ہے۔ نصاب کا حساب چاندی کی موجودہ قیمت کے مطابق کیا جائے گا (یا سونے کے مطابق اگر آپ اس قول کو اختیار کریں؛ اہلِ حدیث کے نزدیک راجح قول چاندی کا نصاب ہے کیونکہ یہ فقراء کے لیے زیادہ نفع بخش ہے)۔ اگر بیلنس اس حد کو پہنچ جائے اور اس پر ایک قمری سال گزر جائے تو 2.5% زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہے۔ دلائل: 1. صحیح بخاری 1404 (چاندی کا نصاب اور مال جمع کرنے کی مذمت)۔ 2. صحیح بخاری 1405 (چاندی، اونٹوں اور اناج کا نصاب)۔ 3. صحیح بخاری 1403 (زکوٰۃ نہ دینے کی سخت سزا)۔ 4. صحیح مسلم 988a (مال کی زکوٰۃ نہ دینے کی سزا)۔ 5. سورۃ التوبہ 9:34-35 (زکوٰۃ ادا کیے بغیر مال جمع کرنے پر تنبیہ)۔ 6. صحیح بخاری 1468، صحیح مسلم 983 (ہر صاحبِ نصاب مسلمان پر زکوٰۃ کی فرضیت)۔ تنبیہ: یہ نصوص کی روشنی میں ایک عمومی فتویٰ ہے۔ مخلوط رقوم یا متعدد اکاؤنٹس پر مشتمل پیچیدہ صورتوں میں کسی ماہر عالم سے رجوع کریں۔

References

Quran Surah At-Tawbah 9:34-35
Hadith Sahih al-Bukhari 1468; Sahih al-Bukhari 1404; Sahih al-Bukhari 1403; Sahih al-Bukhari 1405; Sahih Muslim 988a; Sahih Muslim 983
Fiqh Ibn Baz, al-Uthaymin, Permanent Committee for Islamic Research and Ifta; based on Qur'an and Sahih Hadith (no madhhab taqlid)