← Back to Fatwas
Foundations & Conditions Jul 13, 2026

زکوٰۃ کی شرط کے طور پر مکمل ملکیت

Question

زکوٰۃ کے لیے 'مکمل ملکیت' سے کیا مراد ہے، اور یہ منجمد یا ناقابلِ رسائی مال پر کیا اثر ڈالتی ہے؟

Ruling (Fatwa)

مختصر جواب: مذکورہ صحیح احادیث میں 'مکمل ملکیت' (الملک التام) کو زکوٰۃ کی شرط کے طور پر صراحتاً بیان نہیں کیا گیا، لیکن اُس مال پر زکوٰۃ کے عمومی وجوب سے جو انسان کی ملکیت اور تصرّف میں ہو (دیکھیے: صحیح بخاری 1454، 1403، 1404 اور اس سے متعلق احکام) یہ سمجھا جاتا ہے کہ زکوٰۃ صرف اُسی مال پر واجب ہوتی ہے جو مکمل طور پر مملوک ہو، مالک کے مؤثر تصرّف میں ہو اور استعمال کے لیے قابلِ رسائی ہو۔ منجمد یا ناقابلِ رسائی مال (مثلاً زیرِ مقدمہ رقم، دیوالیہ ادارے میں پھنسا ہوا مال، یا کسی اور وجہ سے ناقابلِ حصول) اُس وقت تک زکوٰۃ کے تابع نہیں ہوتا جب تک وہ واپس نہ مل جائے اور مالک اُس پر پوری قبضہ و ملکیت دوبارہ حاصل نہ کر لے، کیونکہ مالک اُس میں تصرّف کی قدرت نہیں رکھتا۔ یہی بہت سے علماء کا مؤقف ہے، اگرچہ مذکورہ احادیث منجمد مال کے مسئلے کو براہِ راست بیان نہیں کرتیں۔ دلائل: 1. صحیح بخاری 1454 سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں سے اُن کے مال پر زکوٰۃ وصول کی جاتی تھی، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ مال اُن کے تصرّف میں تھا۔ 2. صحیح بخاری 1403 میں اُس شخص کے لیے سخت سزا کی وعید ہے جسے اللہ نے مال دار بنایا اور اُس نے زکوٰۃ ادا نہ کی، جو بتاتا ہے کہ زکوٰۃ اُس مال پر ہے جو انسان کے قبضے میں ہو۔ 3. صحیح بخاری 1404 میں سونا چاندی جمع کر کے زکوٰۃ نہ دینے کی مذمّت ہے، جو دوبارہ زکوٰۃ کا تعلق اُس مال سے جوڑتی ہے جو ذخیرہ کیا گیا ہو — یعنی جو مالک کے تصرّف میں ہو۔ 4. صحیح بخاری 1408 اور صحیح مسلم 1050 اُس مال پر زکوٰۃ کے وجوب کو مزید مؤکّد کرتی ہیں جو انسان کے پاس ہو۔ مکمل ملکیت کے شرط ہونے کا تصوّر انہی اور دیگر نصوص سے مستنبط ہے، لیکن کوئی نص صراحتاً منجمد اموال کے بارے میں بات نہیں کرتی۔ تنبیہ: یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے؛ مخصوص صورتوں کے لیے کسی صاحبِ علم عالم سے رجوع کریں۔

References

Hadith Sahih al-Bukhari 1454; Sahih al-Bukhari 1403; Sahih al-Bukhari 1404; Sahih al-Bukhari 1408; Sahih Muslim 1050
Fiqh Based on general zakat injunctions in Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim; condition of complete ownership inferred by scholars such as Ibn Baz, al-Uthaymin, and the Permanent Committee.