Question
میں نے کئی گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کی — میں گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ کیسے شمار کروں اور ادا کروں؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: پیش کردہ دلائل زکوٰۃ کے وجوب اور اسے چھوڑنے پر سخت سزا کو ثابت کرتے ہیں (سورۃ التوبہ 9:34-35، صحیح مسلم 987a)، لیکن ان میں یہ صریح ہدایت نہیں کہ گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ کیسے شمار یا ادا کی جائے۔ اس لیے درج ذیل عمومی حکم دلائل کے کلی اصولوں پر مبنی ہے۔
تفصیل: زکوٰۃ ایک فرض عبادت ہے۔ اگر آپ نے گزشتہ سالوں میں یہ ادا نہیں کی تو آپ کو توبہ کرنی چاہیے اور جو واجب ہے اسے جلد از جلد ادا کرنا چاہیے۔ شمار کے لیے آپ کو ہر چھوٹے ہوئے سال کے بارے میں یہ متعین کرنا ہوگا: کیا آپ کا مال نصاب (کم از کم حد) کو پہنچا تھا جیسا کہ صحیح بخاری 1454 اور دیگر دلائل میں بیان ہوا ہے (مثلاً 5 اوقیہ چاندی، 5 وسق غلہ، 5 اونٹ – دیکھیں P1، P10)، واجب زکوٰۃ کی مقدار (عموماً نقدی/سونا/چاندی پر 2.5%، مویشیوں وغیرہ کے لیے مخصوص شرحیں P1، P6، P7 کے مطابق)، اور ہر سال کے لیے الگ الگ ادا کریں۔ تاہم متعدد چھوٹے ہوئے سالوں کے لیے دقیق فارمولے پیش کردہ متون میں تفصیل سے موجود نہیں۔ علماء سچے اندازے کی سفارش کرتے ہیں، اور اگر صحیح اعداد معلوم نہ ہوں تو معقول اندازہ لگا کر ادا کریں۔ مال جمع کرنے (کنز) کی احادیث (P3، P8) اس بات پر زور دیتی ہیں کہ سزا سے بچنے کے لیے زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے۔ بعض صحابہ کا ادائیگی سے انکار (P5، P9) ظاہر کرتا ہے کہ یہ فریضہ سنگین ہے اور اسے نافذ کرنا ضروری ہے۔
دلائل:
1. سورۃ التوبہ 9:34-35 (P8) ان لوگوں کے لیے دردناک عذاب کی وعید دیتی ہے جو مال جمع کرتے ہیں اور اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے۔
2. صحیح مسلم 987a (P2) بیان کرتی ہے کہ قیامت کے دن وہ مال گرم کیا جائے گا اور اس سے اُس مالک کو داغا جائے گا جس نے زکوٰۃ ادا نہیں کی۔
3. صحیح بخاری 1397 (P12) زکوٰۃ کو اسلام کے ارکان میں شمار کرتی ہے۔
4. صحیح بخاری 1454 (P1) مختلف اقسام کے مال کے لیے تفصیلی شرحیں اور نصاب بیان کرتی ہے۔
5. صحیح مسلم 979a (P10) زکوٰۃ کے لیے کم از کم حدود مقرر کرتی ہے۔
تنبیہ: یہ فتویٰ پیش کردہ دلائل پر مبنی ہے۔ متعدد سالوں اور مختلف اقسام کے اثاثوں پر مشتمل پیچیدہ حسابات کے لیے کسی جید عالم سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔
References
Quran
Surah At-Tawbah 9:34-35
Hadith
Sahih Muslim 987a; Sahih al-Bukhari 1397; Sahih al-Bukhari 1454; Sahih Muslim 979a; Sahih al-Bukhari 1404
Fiqh
Based on evidence from Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim; general consensus of Ahl al-Hadith scholars (e.g., Ibn Baz, al-Uthaymin).