← Back to Fatwas
Recipients (8 Categories) Jul 13, 2026

زکوٰۃ میں «فی سبیل اللہ» کا مفہوم

Question

«اللہ کی راہ میں» سے کیا مراد ہے — صرف مسلح جہاد، یا دعوت، طلبہ اور فلاحی کام بھی؟

Ruling (Fatwa)

مختصر جواب: قرآنِ کریم کے واضح دلائل اور سلفِ صالحین کے فہم کے مطابق، مصارفِ زکوٰۃ کے ضمن میں «فی سبیل اللہ» (اللہ کی راہ میں) سے خاص طور پر اللہ کی راہ میں مسلح جہاد اور اس کی تیاری مراد ہے (سورۃ التوبہ 9:60)۔ اس میں مجاہدین اور سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں کے لیے اسلحہ، ساز و سامان اور مدد فراہم کرنا شامل ہے۔ اس میں مساجد، سڑکوں اور پلوں کی تعمیر، دعوتی سرگرمیاں، طلبہ کے وظائف یا عام فلاحی منصوبے شامل نہیں۔ بعض متاخرین علما نے اس مفہوم کو تمام نیک کاموں تک وسیع کر دیا ہے، لیکن قرآن کے بنیادی استعمال (جہاں اس کی تفسیر «مجاہدین کے لیے» کی گئی ہے) اور سلف کے اجماع کی بنیاد پر دلیل کے اعتبار سے راجح قول یہی ہے کہ یہ جہاد تک محدود ہے۔ دلائل: 1۔ سورۃ التوبہ 9:60 میں «فی سبیل اللہ» کو مستحقینِ زکوٰۃ کی آٹھ اقسام میں سے ایک کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ کلاسیکی تفسیر اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ اس کا مطلب «اللہ کی راہ میں لڑنے والے» (مجاہدین) ہیں۔ 2۔ مستقل کمیٹی برائے علمی تحقیق و افتاء (سعودی عرب) اور شیخ ابن باز فرماتے ہیں: «آیت میں (فی سبیل اللہ) کا بنیادی مفہوم اللہ کی راہ میں جہاد اور اس کی تیاری ہے... مساجد، سڑکوں، پلوں کی تعمیر یا عام فلاحی مصالح اس میں شامل نہیں۔» لہٰذا، «فی سبیل اللہ» کے مصرف کے لیے مختص زکوٰۃ کی رقم براہِ راست ان لوگوں کو دی جانی چاہیے جو اسلام کے دفاع میں جسمانی جہاد میں مصروف ہیں یا اس کی تیاری کر رہے ہیں۔ دیگر فلاحی ضروریات کے لیے زکوٰۃ کی دوسری اقسام جیسے «فقراء» یا «مساکین» استعمال کی جا سکتی ہیں۔ انتباہ: یہ فراہم کردہ دلائل کی بنیاد پر ایک خلاصہ ہے۔ پیچیدہ مسائل کے لیے کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔

References

Quran Surah At-Tawbah 9:60
Fiqh Ibn Baz; Permanent Committee for Scholarly Research and Ifta