← Back to Fatwas
Recipients (8 Categories)
Jul 13, 2026
بہن بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں کو زکوٰۃ دینا
Question
کیا میں اپنے ضرورت مند بھائی، بہن، چچا، پھوپھی، بھتیجے یا سسرالی رشتہ داروں کو زکوٰۃ دے سکتا ہوں؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: جی ہاں، آپ اپنے ضرورت مند بھائیوں، بہنوں، چچاؤں، پھوپھیوں، بھتیجوں اور سسرالی رشتہ داروں کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ ان لوگوں میں سے نہ ہوں جن کا نان و نفقہ آپ پر شرعاً واجب ہے (جیسے والدین یا اولاد)۔ ایسا کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ مستحب بھی ہے، کیونکہ اس میں صدقے کا ثواب اور صلہ رحمی کا ثواب دونوں جمع ہو جاتے ہیں۔
تفصیل: قرآن مجید (سورۃ التوبہ 9:60) کا عمومی اصول زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بیان کرتا ہے، جن میں فقراء و مساکین بھی شامل ہیں۔ جو رشتہ دار "فقیر و مسکین" کے زمرے میں آتے ہیں وہ زکوٰۃ کے مستحق ہیں۔ سب سے مضبوط دلیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ملتی ہے۔ صحیح بخاری 1466 میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو اپنے زیورات میں سے صدقہ کرنے کا حکم دیا، اور عبد اللہ کی بیوی زینب اپنے شوہر اور اپنی زیرِ کفالت یتیموں پر خرچ کیا کرتی تھیں—جو قریبی رشتہ داروں کو صدقہ دینے کے جواز کو ظاہر کرتا ہے۔ مزید برآں، صحیح بخاری 1461 میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رشتہ دار کو صدقہ دینے پر دوہرا اجر ملتا ہے: ایک صدقے کا اور ایک صلہ رحمی کا۔ اللجنۃ الدائمہ اور شیخ ابن عثیمین (جیسا کہ فراہم کردہ دلائل میں مذکور ہے) نے تصدیق کی ہے کہ جن ضرورت مند رشتہ داروں کا نان و نفقہ آپ پر واجب نہیں، انہیں زکوٰۃ دینا اجنبیوں کو دینے سے بہتر ہے۔ رہے سسرالی رشتہ دار، تو وہ خونی رشتہ دار نہیں لیکن اگر وہ ضرورت مند ہوں تو انہیں دینے میں کوئی ممانعت نہیں، اور وہ عام فقراء کے زمرے میں آتے ہیں۔ البتہ جن کا نان و نفقہ آپ پر پہلے سے واجب ہے (مثلاً والدین، اولاد، بیوی) انہیں زکوٰۃ نہیں دینی چاہیے، کیونکہ ان کا نفقہ تو ویسے ہی آپ پر فرض ہے (دیکھیے صحیح بخاری 1428)۔
دلائل:
1. صحیح بخاری 1466: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو صدقہ کرنے کا حکم دیا، اور زینب اپنے شوہر اور یتیموں پر خرچ کیا کرتی تھیں—جو قریبی رشتہ داروں کو صدقہ دینے کے جواز کو ظاہر کرتا ہے۔
2. فتاویٰ اللجنۃ الدائمہ: جن ضرورت مند رشتہ داروں کا نفقہ آپ پر واجب نہیں، انہیں زکوٰۃ دینا جائز اور بہتر ہے، اور اس پر دوہرا اجر ملتا ہے۔
3. صحیح بخاری 1461: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رشتہ دار کو صدقہ دینے پر دو اجر ہیں: صدقے کا اور صلہ رحمی کا۔
4. صحیح بخاری 1428: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے اپنے زیرِ کفالت لوگوں سے شروع کرو، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو رشتہ دار زیرِ کفالت نہیں وہ زکوٰۃ کے مستحق ہیں۔
تنبیہ: یہ ایک عمومی حکم ہے۔ پیچیدہ خاندانی حالات یا مخصوص ذمہ داریوں کے لیے کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Hadith
Sahih al-Bukhari 1466; Sahih al-Bukhari 1428; Sahih al-Bukhari 1461
Fiqh
Permanent Committee for Scholarly Research and Ifta (Fatawa al-Lajnah al-Da'imah); Shaykh Muhammad ibn Salih al-Uthaymin; Ibn Baz; based on Sahih al-Bukhari 1461, 1466, 1428.