Question
میں نے ماہانہ اقساط پر طویل مدتی ہوم لون لیا ہے۔ کیا میری بچت لون کی مکمل ادائیگی تک زکوٰۃ سے مستثنیٰ رہے گی؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: نہیں، کوئی استثنا نہیں۔ طویل مدتی قرض کے باوجود ہاتھ میں موجود نصاب کے برابر بچت پر زکوٰۃ فرض رہتی ہے — دلائل کی رو سے یہی راجح موقف ہے۔ زیادہ سے زیادہ صرف عنقریب واجب الادا قسط منہا کی جا سکتی ہے؛ اگر 20-30 سال کا پورا بقایا منہا کر دیا جائے تو ظاہری طور پر مال دار لوگ کبھی زکوٰۃ ادا ہی نہ کریں۔
تفصیل: مکان بذاتِ خود، جب کہ وہ آپ کی رہائش گاہ ہے، اس پر کوئی زکوٰۃ نہیں۔ قرض اور بچت کا مسئلہ متعلقہ فتوے میں تفصیل سے بیان ہوا ہے — نبی کریم ﷺ کے عمل میں زکوٰۃ ظاہری اموال سے وصول کی جاتی تھی۔ یاد رکھیے: سودی ہوم لون (رہن) سود ہے اور اس کا معاہدہ کرنا حرام ہے؛ اگر لے لیا ہو تو توبہ کریں اور جتنی جلدی ممکن ہو اس سے نکلیں — لیکن یہ گناہ زکوٰۃ کی فرضیت کو معطل نہیں کرتا؛ بلکہ زکوٰۃ مال کو پاک کرتی ہے۔
دلائل: قرآن 9:103؛ قرآن 2:275، 2:278-279 اور صحیح مسلم 1598 (سود)؛ شیخ ابن عثیمین: 'جس مقروض کے پاس نصاب ہو وہ زکوٰۃ ادا کرے گا' (مجموع فتاویٰ، زکوٰۃ)۔
پیچیدہ انفرادی مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 9:103; 2:278-279
Hadith
Sahih Muslim 1598
Fiqh
al-Uthaymin on the debtor's zakat