← Back to Fatwas
Debts & Loans
Jul 13, 2026
قرض داروں کو زکوٰۃ دینا اور قرض معاف کرنے کو زکوٰۃ شمار کرنا
Question
کیا قرض میں ڈوبے ہوئے شخص کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟ اور اگر میں کسی پر اپنا قرض معاف کر دوں تو کیا وہ میری زکوٰۃ شمار ہو سکتا ہے؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: (1) جی ہاں — قرض دار (الغارمین) قرآن میں مذکور زکوٰۃ کے آٹھ مصارف میں سے ایک ہیں؛ جو شخص حلال ضرورت کے لیے مقروض ہو اور ادائیگی سے عاجز ہو، اسے اس کے قرض کی مقدار تک زکوٰۃ دی جا سکتی ہے، بلکہ براہِ راست اس کے قرض خواہ کو بھی ادا کی جا سکتی ہے۔ (2) نہیں — اپنا قرض معاف کر دینا ایک عظیم صدقہ ہے، لیکن وہ زکوٰۃ شمار نہیں ہو سکتا؛ کیونکہ زکوٰۃ میں مال کی حقیقی منتقلی (تملیک) شرط ہے، جبکہ قرض معاف کرنا محض ایک غیر وصول شدہ حق سے دستبرداری ہے۔
تفصیل: نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سوال کرنا صرف تین آدمیوں کے لیے حلال ہے، جن میں ایک وہ شخص ہے جو قرض کے بوجھ تلے دبا ہو؛ وہ اپنا قرض ادا ہونے تک سوال کر سکتا ہے (صحیح مسلم 1044)۔ شرط: اگر قرض حرام کاموں (سود، جوئے) کی وجہ سے ہو تو پہلے توبہ کا ظاہر ہونا ضروری ہے۔ آپ اپنی زکوٰۃ اپنے مقروض رشتہ دار کو بھی دے سکتے ہیں — اس طرح صدقے اور صلہ رحمی دونوں کا اجر ملتا ہے۔
دلائل: قرآن 9:60؛ صحیح مسلم 1044 (حدیثِ قبیصہ)؛ تملیک کی شرط اور معاف کیے گئے قرض کے زکوٰۃ شمار نہ ہونے پر جمہور علماء، اللجنۃ الدائمہ اور شیخ ابن عثیمین کے فتاوٰی۔
پیچیدہ انفرادی مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 9:60
Hadith
Sahih Muslim 1044
Fiqh
majority; Permanent Committee; al-Uthaymin on tamlīk