Question
مجھے ہر ماہ پنشن ملتی ہے جس کا بیشتر حصہ گھر کے اخراجات میں صرف ہو جاتا ہے۔ کیا اس آمدنی پر زکوٰۃ واجب ہے؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: زکوٰۃ آمدنی پر نہیں بلکہ بچت پر واجب ہوتی ہے۔ ماہانہ پنشن تنخواہ کی طرح ہے: جو خرچ ہو جائے اس پر کوئی زکوٰۃ نہیں؛ اور جو جمع ہو کر آپ کے کل مال کو نصاب سے اوپر رکھے اور اس پر قمری سال گزر جائے، اس پر 2.5% زکوٰۃ ہے۔
تفصیل: اسلام میں انکم ٹیکس کی طرز پر کمائی پر کوئی محصول نہیں؛ زکوٰۃ کا تعلق اس مال سے ہے جو سال کے اختتام پر باقی رہے۔ عملی طریقہ: کوئی ایک ہجری تاریخ اپنا یومِ زکوٰۃ مقرر کر لیں؛ اس دن بینک بیلنس + نقدی + دیگر قابلِ زکوٰۃ اموال جمع کریں؛ اگر مجموعہ نصاب (87.48 گرام سونے یا 612.36 گرام چاندی کی قیمت) سے بڑھ جائے تو 2.5% ادا کریں۔ ہر مہینے کی آمدنی کے لیے الگ الگ حول کا حساب رکھنے کی ضرورت نہیں — سال میں ایک بار حساب کرنے سے بس کچھ زکوٰۃ پیشگی ادا ہو جاتی ہے، اور یہ جائز ہے۔
دلائل: قرآن 2:219 («کہہ دیجیے: جو ضرورت سے زائد ہو»)؛ ابن ماجہ 1792 (حول)؛ اور تنخواہ اور وقتاً فوقتاً آنے والی آمدنی کے بارے میں شیخ ابن باز اور شیخ ابن عثیمین کا سکھایا ہوا عملی طریقہ۔
پیچیدہ انفرادی مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 2:219
Hadith
Ibn Majah 1792, sahih per al-Albani
Fiqh
Ibn Baz; al-Uthaymin on salary zakat