← Back to Fatwas
Real Estate Jul 13, 2026

کرائے پر دی گئی جائیداد کی زکوٰۃ

Question

میں ایک فلیٹ کرائے پر دیتا ہوں۔ کیا زکوٰۃ فلیٹ کی قیمت پر ہوگی یا کرائے پر؟

Ruling (Fatwa)

مختصر جواب: فلیٹ کی قیمت پر نہیں — زکوٰۃ کرائے سے جمع شدہ رقم پر واجب ہوتی ہے۔ آپ کے یومِ زکوٰۃ پر کرائے کی جو بچت (آپ کی دیگر نقدی کے ساتھ مل کر) نصاب سے اوپر ہو، اس پر 2.5% زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔ تفصیل: کرائے پر دی گئی جائیداد ایک آمدنی دینے والا مستقل اثاثہ ہے، جیسے کاریگر کے اوزار یا کرائے پر چلنے والی گاڑی؛ خود اثاثہ زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہے جبکہ اس کی آمدنی پر نقدی کے احکام جاری ہوتے ہیں۔ پیشگی کرایہ وصول ہوتے ہی نقدی شمار ہوتا ہے۔ اخراجات (مرمت، ٹیکس) نکالنے کے بعد جو باقی بچے وہی حساب میں آتا ہے۔ اگر آپ کبھی اس جائیداد کو دوبارہ فروخت کی تجارت کی نیت سے رکھ لیں تو اسی دن سے وہ مالِ تجارت بن جاتی ہے جس پر بازاری قیمت کے اعتبار سے زکوٰۃ واجب ہوگی۔ دلائل: صحیح بخاری 1464 (استعمالی اثاثوں کا استثنا)؛ صحیح بخاری 1454 (نقدی کی زکوٰۃ)؛ ابن ماجہ 1792 (حول)؛ نیز شیخ ابن باز، شیخ ابن عثیمین اور اللجنۃ الدائمہ کے فتاوٰی کہ کرائے کی جائیداد پر زکوٰۃ صرف اس کے جمع شدہ کرائے پر ہے۔ عملی طریقہ: سب سے آسان طریقہ — اپنے سالانہ یومِ زکوٰۃ پر بینک اور نقدی میں جو کچھ ہو، کرائے سمیت، سب ایک ساتھ شمار کریں؛ ہر مہینے کے کرائے کا الگ حول گننے کی ضرورت نہیں۔ پیچیدہ انفرادی مسائل میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔

References

Quran Quran 9:103
Hadith Bukhari 1464, 1454; Ibn Majah 1792
Fiqh Ibn Baz; al-Uthaymin; Permanent Committee