Question
میں نے نفع پر بیچنے کی نیت سے زمین خریدی تھی — برسوں سے فروخت نہیں ہو سکی۔ کیا مجھ پر ہر سال اس کی زکوٰۃ واجب ہے؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: جی ہاں۔ پختہ ارادۂ فروخت کے ساتھ خریدی گئی زمین یا فلیٹ عروضِ تجارت ہیں — ہر سال آپ کے یومِ زکوٰۃ پر اس دن کی بازاری قیمت کا 2.5% ادا کرنا واجب ہے، خواہ وہ کتنے ہی سال غیر فروخت شدہ پڑی رہے۔
تفصیل: قیمت اُس دن کے منصفانہ بازاری نرخ سے لگائیں، اپنی خرید کی قیمت سے نہیں۔ اگر نقد رقم پاس نہ ہو تو علماء نے گنجائش دی ہے کہ ہر سال کی زکوٰۃ کا حساب لکھ کر محفوظ رکھیں اور زمین بکتے ہی تمام جمع شدہ سالوں کی زکوٰۃ یکمشت ادا کر دیں — یہ ذمے پر قرض رہتی ہے، کبھی معاف نہیں ہوتی۔ اگر آپ کی نیت واقعی بدل جائے (مثلاً وہاں اپنا گھر بنانے کا فیصلہ کر لیں) تو اسی دن سے وہ عروضِ تجارت نہیں رہتی اور زکوٰۃ رک جاتی ہے؛ لیکن محض بہتر قیمت کے انتظار میں روکے رکھنا نیت کی تبدیلی نہیں۔
دلائل: قرآن 2:267؛ صحیح بخاری 1 (اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے — عروضِ تجارت ہونا نیت ہی سے طے ہوتا ہے)؛ لجنہ دائمہ اور شیخ ابن باز کے فتاویٰ کہ فروخت کے لیے رکھی گئی زمین کی زکوٰۃ ہر سال بازاری قیمت پر واجب ہے، اور جس کے پاس نقد نہ ہو اس کے لیے فروخت کے بعد ادائیگی کی اجازت ہے۔
پیچیدہ انفرادی مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 2:267
Hadith
Sahih al-Bukhari 1
Fiqh
Permanent Committee; Ibn Baz