Question
میں نے ایک ڈیویلپر کے پاس فلیٹ بک کروا رکھا ہے اور قسطیں ادا کر رہا ہوں؛ ابھی ہینڈ اوور نہیں ہوا۔ کیا زکوٰۃ ادا شدہ قسطوں پر واجب ہے یا فلیٹ پر؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: اس کا دارومدار مقصد پر ہے۔ (الف) اگر اپنی رہائش کے لیے ہو: تو نہ ادا شدہ قسطوں پر زکوٰۃ ہے نہ فلیٹ پر — ادا کی گئی رقم اب آپ کی ملکیت نہیں رہی، اور فلیٹ ذاتی استعمال کا مال ہے۔ (ب) اگر نفع پر فروخت کی نیت ہو: تو یہ تجارتی سرمایہ کاری ہے — ہر سال اپنے یومِ زکوٰۃ پر اپنے بکنگ/الاٹمنٹ کے حق کی بازاری قیمت کا 2.5% ادا کریں؛ غیر ادا شدہ آئندہ قسطیں آپ کا مال نہیں اور حساب میں شامل نہیں ہوں گی۔
تفصیل: ادا شدہ قسطیں ڈیویلپر کی ملکیت بن جاتی ہیں؛ آپ کی ملکیت صرف معاہدے پر مبنی حق ہے۔ فروخت کی نیت کے ساتھ یہی حق آپ کا مالِ تجارت ہے، جس کی قیمت وہ ہے جو آج بکنگ کی منتقلی پر مل سکے۔ باقی قسطوں پر قرض کے احکام جاری ہوں گے — دلیل پر مبنی راجح قول کے مطابق آئندہ کے واجبات ہاتھ میں موجود مال کی زکوٰۃ کو نہیں روکتے، البتہ بعض علماء نے قریب الادا قسط کو منہا کرنے کی گنجائش دی ہے۔
دلائل: صحیح بخاری 1 (اعمال کا دارومدار نیتوں پر)؛ صحیح بخاری 1464 (ذاتی استعمال کے مال کا استثنا)؛ قرآن 2:267 مع اللجنۃ الدائمہ کے عقاری فتاویٰ کے اصول۔
پیچیدہ انفرادی مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 2:267
Hadith
Bukhari 1, 1464
Fiqh
Permanent Committee on real-estate zakat