Question
میں حصص بیچنے کی نیت سے نہیں بلکہ ڈیویڈنڈ (منافع) کے لیے طویل مدت تک اپنے پاس رکھتا ہوں۔ کیا ان کی زکوٰۃ پوری بازاری قیمت پر ہوگی یا کسی اور طریقے سے شمار ہوگی؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: دلیل پر چلنے والے علماء نے اس مسئلے میں دو طریقے بیان کیے ہیں: (الف) کمپنی کے قابلِ زکوٰۃ اثاثوں (نقدی، واجب الوصول رقوم، مالِ تجارت/اسٹاک) میں اپنے تناسبی حصے پر 2.5% ادا کریں — کیونکہ حصص دار درحقیقت کمپنی کے اثاثوں میں شریک ہوتا ہے؛ یا (ب) آسانی اور احتیاط کے پیشِ نظر پوری بازاری قیمت پر 2.5% ادا کریں۔ جب کمپنی کے حسابات کا تجزیہ مشکل ہو تو طریقہ (ب) ہی عملی اور محفوظ راستہ ہے؛ اور جو ڈیویڈنڈ وصول ہو جائے وہ بہرحال نقدی کی حیثیت سے قابلِ زکوٰۃ ہے۔
تفصیل: شیخ ابن عثیمین کا موقف ہے کہ جو حصص تجارت کے لیے نہ ہوں ان کی زکوٰۃ کمپنی کے قابلِ زکوٰۃ اثاثوں پر ہے، جبکہ مستقل اثاثے (عمارتیں، مشینری) مستثنیٰ ہیں۔ AAOIFI شرعی معیار 35 بھی تناسبی طریقہ ہی تجویز کرتا ہے۔ چونکہ عام سرمایہ کار شاذ و نادر ہی بیلنس شیٹ کا تجزیہ کر پاتے ہیں، اس لیے بہت سے معاصر علماء پوری قیمت پر زکوٰۃ ادا کرنے کا مشورہ دیتے ہیں — زائد مقدار نفلی صدقہ شمار ہوگی۔
دلائل: القرآن 9:103؛ صحیح بخاری 1464 (ذاتی استعمال کے اثاثوں پر زکوٰۃ نہیں — یہی پیداواری مستقل اثاثوں کے استثناء کی بنیاد ہے)؛ شیخ ابن عثیمین (مجموع فتاویٰ و رسائل، زکوٰۃ)؛ AAOIFI شرعی معیار 35۔
پیچیدہ انفرادی صورتوں میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 9:103
Hadith
Sahih al-Bukhari 1464
Fiqh
al-Uthaymin; AAOIFI Shariah Standard 35