← Back to Fatwas
Pension & GPF Jul 13, 2026

سرکاری بچت سرٹیفکیٹ کی زکوٰۃ اور اس کے 'منافع' کا حکم

Question

میں نے اپنی ریٹائرمنٹ کی رقم سے سرکاری بچت سرٹیفکیٹ خریدے ہیں — ان پر ہر تین ماہ بعد مقررہ شرح سے منافع ملتا ہے۔ زکوٰۃ اور اس منافع کا کیا حکم ہے؟

Ruling (Fatwa)

مختصر جواب: (1) بچت سرٹیفکیٹ کی اصل رقم آپ کا مال ہے — چونکہ مدت پوری ہونے سے پہلے کیش کرانا ممکن ہے، اس لیے ہر سال اسے اپنی دیگر نقدی کے ساتھ ملا کر 2.5% زکوٰۃ ادا کریں۔ (2) مقررہ شرح والا 'منافع' درحقیقت ریاست کو دیے گئے قرض پر مشروط اضافہ ہے — دلیل پر چلنے والے علماء کے نزدیک یہ سود (ربا) ہے؛ اسے اپنے پاس رکھنا جائز نہیں، اور جو وصول ہو چکا ہو اسے ثواب کی نیت کے بغیر فقراء یا رفاہِ عامہ میں دے دیں — یہ کبھی زکوٰۃ شمار نہیں ہوگا۔ تفصیل: اس کی ساخت یہ ہے کہ آپ ریاست کو قرض دیتے ہیں اور ریاست یقینی اضافے کے ساتھ واپس کرتی ہے — یہی قرض پر مشروط اضافہ ہے، جو قرآن میں حرام کردہ ربا کی اصل صورت ہے۔ یہ نفع و نقصان میں شراکت والی سرمایہ کاری (مضاربت) سے مختلف ہے: یہاں نقصان میں کوئی شراکت نہیں اور شرح پہلے سے طے ہوتی ہے۔ زکوٰۃ کے حساب میں صرف اصل رقم شامل کریں؛ سود کا حصہ آپ کی شرعی ملکیت ہی نہیں۔ اگر اہلِ خانہ کا گزارا اسی پر ہے تو حلال متبادل (کاروباری سرمایہ کاری، کرائے کی جائیداد، سونا) کی طرف منتقل ہونے کی کوشش کریں۔ دلائل: القرآن 2:275؛ القرآن 2:279 (اگر تم توبہ کر لو تو تمہارا اصل مال تمہارا ہے)؛ صحیح مسلم 1598 (سود کے تمام فریقوں پر لعنت)؛ مقررہ شرح والے سرکاری سرٹیفکیٹس کے بارے میں مستقل فتویٰ کمیٹی (اللجنۃ الدائمۃ) اور شیخ ابن باز کے فتاوٰی۔ پیچیدہ انفرادی صورتوں میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔

References

Quran Quran 2:275, 2:279
Hadith Sahih Muslim 1598
Fiqh Permanent Committee; Ibn Baz