← Back to Fatwas
Real Estate Jul 13, 2026

وقف شدہ جائیداد کی زکوٰۃ

Question

ہماری خاندانی زمین کا ایک حصہ مسجد و مدرسے کے لیے وقف ہے؛ ایک وقف دکان کا کرایہ مدرسے کو جاتا ہے۔ کیا وقف کے اموال پر زکوٰۃ واجب ہے؟

Ruling (Fatwa)

مختصر جواب: جو جائیداد عوامی یا دینی مقاصد (مسجد، مدرسہ، فقراء) کے لیے وقف کر دی جائے — اور اس کی آمدنی بھی — اس پر زکوٰۃ نہیں: وقف ہوتے ہی وہ ذاتی ملکیت سے نکل کر اللہ کے لیے محبوس ہو جاتی ہے، جبکہ زکوٰۃ کی شرط ہی کسی متعین مالک کی مکمل ملکیت ہے۔ البتہ متعین اشخاص پر وقف (مثلاً «آمدنی میری اولاد کے لیے») میں مستحقین جو آمدنی عملاً وصول کریں وہ ان کا اپنا مال ہے — نقدی کے احکام کے مطابق نصاب اور حول کے اعتبار سے اس پر زکوٰۃ واجب ہے۔ تفصیل: اس باب کی اصل حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خیبر کی زمین کا واقعہ ہے: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «اصل کو روک لو اور اس کا پھل صدقہ کر دو» — اصل جائیداد نہ بیچی جاتی ہے، نہ ہبہ کی جاتی ہے، نہ وراثت میں منتقل ہوتی ہے۔ متولی پر لازم ہے کہ آمدنی صرف واقف کے مقرر کردہ مصارف پر خرچ کرے — خود کھا جانا امانت میں خیانت ہے۔ تنبیہ: وقف کا اعلان کر کے عملاً اپنے قبضے میں رکھنے سے نہ وقف نافذ ہوتا ہے اور نہ زکوٰۃ کی ذمہ داری سے چھٹکارا ملتا ہے؛ دستاویزات مکمل کر کے انتظام حوالے کر دیں۔ دلائل: صحیح بخاری 2737 اور صحیح مسلم 1632 (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وقف)؛ قرآن 3:92؛ صحیح مسلم 1631 (صدقۂ جاریہ)؛ جمہور علماء اور اللجنۃ الدائمۃ۔ پیچیدہ انفرادی مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔

References

Quran Quran 3:92
Hadith Bukhari 2737; Muslim 1632, 1631
Fiqh majority; Permanent Committee on waqf