Question
قرض کی ضمانت میں زمین رہن رکھی گئی ہے — دیہات میں رائج 'بھوگ بندھک' میں قرض دہندہ زمین پر کاشت کر کے پیداوار خود لے لیتا ہے۔ ان صورتوں کے احکام اور زکوٰۃ کیا ہیں؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: (1) رہن رکھی ہوئی زمین بدستور مالک ہی کی رہتی ہے — ذاتی/زرعی زمین پر معمول کے احکام باقی رہتے ہیں (قیمت پر زکوٰۃ نہیں؛ فصل پر عشر)، اور تجارتی مال والی زمین رہن کے باوجود بازاری قیمت پر زکوٰۃ کے تابع رہتی ہے۔ (2) 'بھوگ بندھک' — قرض کے بدلے قرض دہندہ کا زمین کی پیداوار سے فائدہ اٹھانا — دلیل پر چلنے والے علماء کے نزدیک سود میں داخل ہے: قرض سے کھینچا گیا ہر مشروط فائدہ سود کی اصل حقیقت ہے۔ اس معاہدے سے نکل کر جائز متبادل اختیار کرنا واجب ہے (بازاری کرائے پر الگ اجارہ، یا زمین کا کچھ حصہ بیچ دینا)۔
تفصیل: رہن بذاتِ خود جائز ہے — قرآن نے قبضے میں لیے گئے رہن کی توثیق کی ہے؛ ناجائز یہ ہے کہ قرض دہندہ رہن شدہ مال کی پیداوار کھائے، کیونکہ یہ قرض پر نفع ہے۔ بھوگ بندھک میں فصل کا عشر اسی کے ذمے ہے جو کاشت کرتا اور پیداوار کا مالک بنتا ہے؛ لیکن عشر ادا کرنے سے ناجائز معاہدہ پاک نہیں ہو جاتا — اس کی اصلاح ضروری ہے۔
دلائل: قرآن 2:283 (رہن کی مشروعیت)؛ قرآن 2:275؛ صحیح بخاری 2068 (نبی ﷺ نے اپنی زرہ جَو کے بدلے رہن رکھی — رہن جائز، مگر قرض دہندہ کے اضافی فائدے کی کوئی اجازت نہیں)؛ اللجنۃ الدائمۃ اور شیخ ابن باز کا فتویٰ کہ قرض کے بدلے رہن شدہ زمین کی پیداوار کھانا سود ہے۔
پیچیدہ انفرادی صورتوں میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 2:283, 2:275
Hadith
Sahih al-Bukhari 2068
Fiqh
Permanent Committee; Ibn Baz on pledge yield